غزہ، امن فورس اور انڈونیشیا: نیت، نیّت اور نتائج


تحریر ، سردار ٹکا خان طاہر

غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس میں انڈونیشین فوج کی شمولیت نے صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ خود انڈونیشیا کے اندر ایک سنجیدہ اور پیچیدہ بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سوال محض یہ نہیں کہ انڈونیشیا کیوں جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ وہ وہاں جا کر کیا کرے گا — اور کس کے لیے؟انڈونیشیا ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر آمادہ ہیں۔ ان میں مراکش، کوسوو، قازقستان اور البانیہ شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک امن پسند اقدام لگتا ہے، خاص طور پر اس ملک کے لیے جو دہائیوں سے فلسطینی کاز کا اخلاقی حامی رہا ہے۔ مگر زمینی حقائق اس تصویر کو خاصا دھندلا بنا دیتے ہیں۔یہ فورس روایتی اقوام متحدہ کے امن مشنز سے مختلف ہے۔ اگرچہ 17 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے اس منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا، مگر یہ فورس براہِ راست اقوام متحدہ کے کمانڈ اسٹرکچر کے تحت کام نہیں کرے گی۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے مطابق، اس فورس میں شامل ممالک کو اسرائیل اور مصر کے ساتھ تعاون اور مشاورت کرنا ہو گی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے تنازع جنم لیتا ہے۔بین الاقوامی استحکام فورس کی ذمہ داریوں میں سرحدی سلامتی، شہریوں کا تحفظ اور امدادی راستوں کو محفوظ بنانا شامل ہے، مگر اس فہرست میں سب سے خطرناک اور متنازع شق حماس کو غیر مسلح کرنا اور اس کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو انڈونیشیا کے لیے اخلاقی اور قانونی بارودی سرنگ ثابت ہو سکتا ہے۔غزہ، خاص طور پر رفح جیسے علاقوں میں، جنگ کسی روایتی محاذ پر نہیں لڑی جاتی۔ زیرِ زمین سرنگیں، گنجان آبادی، اور شہری و جنگجو کے درمیان دھندلی لکیر کسی بھی غیر ملکی فورس کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہو سکتی ہے۔ ایسے میں یہ دعویٰ کہ انڈونیشین فوج “غیر متحارب” رہے گی، زمینی حقیقت سے زیادہ ایک سفارتی جملہ محسوس ہوتا ہے۔انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوجونو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک نہ تو کسی فوجی آپریشن میں حصہ لے گا اور نہ ہی حماس کو غیر مسلح کرنے میں۔ یہ بیان بظاہر تسلی بخش ہے، مگر سوال باقی رہتا ہے: اگر فورس کا مینڈیٹ ہی غیر مسلح کرنا ہے تو انڈونیشین فوج اس سے خود کو عملی طور پر کیسے الگ رکھے گی؟ کیا میدانِ عمل میں کسی فورس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ موجود تو ہو، مگر فیصلوں کا حصہ نہ بنے؟انڈونیشیا کی تاریخ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں طویل اور قابلِ فخر رہی ہے۔ افریقہ سے لے کر یورپ تک اس کے فوجی امن کے نام پر تعینات رہے، قربانیاں بھی دیں اور تنقید بھی سہی۔ مگر غزہ ایک عام تنازع نہیں۔ یہ محض جغرافیہ نہیں، یہ بیانیہ ہے، شناخت ہے اور دہائیوں کی مزاحمت کی علامت ہے۔اصل خدشہ یہ ہے کہ کہیں انڈونیشیا ایک ایسے منصوبے کا حصہ نہ بن جائے جس کا انجام امن کم اور تصادم زیادہ ہو۔ اگر کسی مرحلے پر انڈونیشین فوج کو ایسے اقدامات کرنا پڑے جن سے شہری متاثر ہوں، تو نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون بلکہ خود انڈونیشیا کی اخلاقی ساکھ بھی داؤ پر لگ سکتی ہے۔امن کی نیت اپنی جگہ، مگر نیت کافی نہیں ہوتی۔ غزہ میں امن قائم کرنا بندوق، وردی یا قرارداد سے نہیں بلکہ سیاسی انصاف سے جڑا ہوا سوال ہے۔ اگر یہ فورس اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے تو اندیشہ ہے کہ یہ “استحکام” کے نام پر ایک اور غیر مستحکم باب ثابت ہو گی—اور انڈونیشیا اس باب میں محض تماشائی نہیں، کردار بن جائے گا

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sardar Tikka Khan Tahir is a UK-based activist and Central Publicity Secretary of the UKPNP. He is committed to exposing injustices and advocating for the right of self-determination and the withdrawal of foreign forces from the region.
Suscribe Newsletter
Get free update right in your inbox, along with 10,000+ others.
Copyright© 2026, All rights reserved. Designed & Developed Tech Nation LTD